Abu Khalid Sulayman ibn Hayyan narrated from Sa'd ibn Tariq, from Rib'i, from Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him), who said: We were with Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) and he asked: Which of you has heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) speaking about the tribulations? Some people replied: We have heard it. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: Perhaps you mean the trials a man faces regarding his family, wealth, and neighbour? They submitted: Yes. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: Those trials are expiated by prayer, fasting, and charity. But which of you has heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) mention the tribulation that will surge like the waves of the ocean? Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: Everyone fell silent, so I said: I have. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: You have — blessed is your father for having such a son. Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: Tribulations will be presented to people's hearts, stick by stick, like a reed mat is woven. Any heart that absorbs them will have a black mark placed in it, and any heart that rejects them will have a white mark placed in it — until hearts become of two types: one white like a smooth stone, which no tribulation will harm as long as the heavens and the earth endure; and the other black and dusty-coloured like an overturned vessel — neither recognising good nor rejecting evil, except what its desires dictate. Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: I told Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him): Between you and those tribulations is a closed door that is about to be broken. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) asked: Will it be broken or opened? If it were opened, it could perhaps be closed again. I said: No, it will be broken. And I told him: That door is a man who will be killed or die. (Hadrat Hudhayfah said:) I narrated to him a hadith, not a fabrication. Abu Khalid said: I asked Sa'd: O Hadrat Abu Malik, what does 'aswad murbaddan' mean? He said: An intense whiteness mixed with blackness (dusty-coloured). I asked: What does 'al-kuzu mujakhiyyan' mean? He said: A vessel turned upside down.
Urdu Translation
ابو خالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے یہ ذکر سنا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل، مال اور پڑوسی (کے بارے) میں پیش آتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس فتنے (اہل، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس فتنے کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے۔) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تو نے، تیرا باپ اللہ ہی کا (بندہ) ہے (کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا۔) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے: فتنے دلوں پر ڈالے جائیں گے، چٹائی (کی بنت) کی طرح تنکا تنکا (ایک ایک) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا (اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا)، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل نے ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے: (ایک دل) سفید، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند (جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے گا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ (دل) لبریز ہو گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: کیا اسے توڑ دیا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جا سکے۔ میں نے کہا: نہیں! بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ اور میں نے انہیں بتا دیا: وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا۔ (حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے انہیں) حدیث (سنائی) کوئی مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں۔ ابو خالد نے کہا: میں نے سعد سے پوچھا: ابو مالک! 'اسود مربادا' سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کالے رنگ میں شدید سفیدی (مٹیالے رنگ)۔ کہا: میں نے پوچھا: 'الکوز مجخیا' سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا کیا ہوا کوزہ۔
Abu Khalid Sulayman ibn Hayyan narrated from Sa'd ibn Tariq, from Rib'i, from Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him), who said: We were with Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) and he asked: Which of you has heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) speaking about the tribulations? Some people replied: We have heard it. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: Perhaps you mean the trials a man faces regarding his family, wealth, and neighbour? They submitted: Yes. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: Those trials are expiated by prayer, fasting, and charity. But which of you has heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) mention the tribulation that will surge like the waves of the ocean? Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: Everyone fell silent, so I said: I have. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: You have — blessed is your father for having such a son. Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: Tribulations will be presented to people's hearts, stick by stick, like a reed mat is woven. Any heart that absorbs them will have a black mark placed in it, and any heart that rejects them will have a white mark placed in it — until hearts become of two types: one white like a smooth stone, which no tribulation will harm as long as the heavens and the earth endure; and the other black and dusty-coloured like an overturned vessel — neither recognising good nor rejecting evil, except what its desires dictate. Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: I told Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him): Between you and those tribulations is a closed door that is about to be broken. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) asked: Will it be broken or opened? If it were opened, it could perhaps be closed again. I said: No, it will be broken. And I told him: That door is a man who will be killed or die. (Hadrat Hudhayfah said:) I narrated to him a hadith, not a fabrication. Abu Khalid said: I asked Sa'd: O Hadrat Abu Malik, what does 'aswad murbaddan' mean? He said: An intense whiteness mixed with blackness (dusty-coloured). I asked: What does 'al-kuzu mujakhiyyan' mean? He said: A vessel turned upside down.
ابو خالد سلیمان بن حیان نے سعد بن طارق سے حدیث سنائی، انہوں نے ربعی سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے یہ ذکر سنا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اس کے اہل، مال اور پڑوسی (کے بارے) میں پیش آتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس فتنے (اہل، مال اور پڑوسی کے متعلق امور میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس فتنے کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے۔) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تو نے، تیرا باپ اللہ ہی کا (بندہ) ہے (کہ اسے تم سا بیٹا عطا ہوا۔) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے: فتنے دلوں پر ڈالے جائیں گے، چٹائی (کی بنت) کی طرح تنکا تنکا (ایک ایک) کر کے اور جو دل ان سے سیراب کر دیا گیا (اس نے ان کو قبول کر لیا اور اپنے اندر بسا لیا)، اس میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جائے گا اور جس دل نے ان کو رد کر دیا اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جائیں گے: (ایک دل) سفید، چکنے پتھر کے مانند ہو جائے گا، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے، کوئی فتنہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرا کالا مٹیالے رنگ کا اوندھے لوٹے کے مانند (جس پر پانی کی بوند بھی نہیں ٹکتی) جو نہ کسی نیکی کو پہچانے گا اور نہ کسی برائی سے انکار کرے گا، سوائے اس بات کے جس کی خواہش سے وہ (دل) لبریز ہو گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے، قریب ہے کہ اسے توڑ دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: کیا اسے توڑ دیا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟ اگر اسے کھول دیا گیا تو ممکن ہے کہ اسے دوبارہ بند کیا جا سکے۔ میں نے کہا: نہیں! بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ اور میں نے انہیں بتا دیا: وہ دروازہ آدمی ہے جسے قتل کر دیا جائے گا یا فوت ہو جائے گا۔ (حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے انہیں) حدیث (سنائی) کوئی مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں۔ ابو خالد نے کہا: میں نے سعد سے پوچھا: ابو مالک! 'اسود مربادا' سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کالے رنگ میں شدید سفیدی (مٹیالے رنگ)۔ کہا: میں نے پوچھا: 'الکوز مجخیا' سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: الٹا کیا ہوا کوزہ۔