Hadrat Anas said:I also saw the wedding feast of Hadrat Zainab, and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) served bread and meat to the people, and made them eat to their heart's content, and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu 'alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), we are in good state 'How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: (" O you who believe), do not enter the houses of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) unless permission is given to 'you" (xxxiii)
Urdu Translation
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بہز نے حدیث سنائی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( بہز اور ابونضر ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ یہ بہز کی حدیث ہے ۔ کہا : جب حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : "" اِن ( زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو ۔ "" کہا : تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں ، کہا : جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان ( کے ساتھ شادی ) کا ذکر کیا تھا ، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا : زینب! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ ( استخارہ ) کر لوں ، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور ( ادھر ) قرآن نازل ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے ۔ ( سلیمان بن مغیرہ نے ) کہا : ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا ۔ اس کے بعد ( اکثر ) لوگ نکل گئے ، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد ( آپ کے ) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( وہاں سے ) نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے ۔ وہ ( جواب دے کر ) کہتیں : اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ( نئی ) اہلیہ کو کیسا پایا؟ ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا ۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور ( اس وقت ) حجاب ( کا حکم ) نازل ہوا ، کہا : اور لوگوں کو ( اس مناسبت سے ) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( آنے کی ) اجازت دی جائے ، اس حال میں ( آؤ ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو ( کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ ) "" سے لے کر اس فرمان تک : "" اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا
Hadrat Anas said:I also saw the wedding feast of Hadrat Zainab, and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) served bread and meat to the people, and made them eat to their heart's content, and he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu 'alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), we are in good state 'How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: (" O you who believe), do not enter the houses of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) unless permission is given to 'you" (xxxiii)
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بہز نے حدیث سنائی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( بہز اور ابونضر ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ یہ بہز کی حدیث ہے ۔ کہا : جب حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : "" اِن ( زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو ۔ "" کہا : تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں ، کہا : جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان ( کے ساتھ شادی ) کا ذکر کیا تھا ، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا : زینب! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ ( استخارہ ) کر لوں ، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور ( ادھر ) قرآن نازل ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے ۔ ( سلیمان بن مغیرہ نے ) کہا : ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا ۔ اس کے بعد ( اکثر ) لوگ نکل گئے ، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد ( آپ کے ) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( وہاں سے ) نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے ۔ وہ ( جواب دے کر ) کہتیں : اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ( نئی ) اہلیہ کو کیسا پایا؟ ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا ۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور ( اس وقت ) حجاب ( کا حکم ) نازل ہوا ، کہا : اور لوگوں کو ( اس مناسبت سے ) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( آنے کی ) اجازت دی جائے ، اس حال میں ( آؤ ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو ( کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ ) "" سے لے کر اس فرمان تک : "" اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا