Hadrat Nafi' reported that 'Abdullah b. Hadrat 'Abdullah and Salim b. Abdullah said to Hadrat 'Abdullah (b. 'Umar) at the time when Hajjaj came to fight against Hadrat Ibn Zubair:There would be no harm if you do not (proceed) for Hajj this year, for we fear that there would be fight among people which would cause obstruction between you and the House, whereupon he said: If there would be obstruction between me and that (Ka'ba), I would do as Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) did. I was with him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) when the infidels of Quraish caused obstructions between him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) and the House. I call you as my witness (to the fact) that I have made 'Umra essential for me. He proceeded until he came to Dhu'l-Hulaifa and pronounced Talbiya for Umra, and said: If the way Is clear forme, I would then complete my 'Umra but If there is some obstruction between me and that (the Ka'ba). I would then do what Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had done (at the occasion of Hudaibiya), and I was with him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)). and then recited:" Verily in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), there is a model pattern for you" (xxxiii. 21). He then moved on until he came to the rear side of al-Baida' and said: There is one command for both of them automatically) (Hajj and Umra). If I am detained (in the performance) of 'Umra, I am ( automatically detained (in the performance) of Hajj (too). I call you as witness that Hajj along with 'Umra I had made essential for me. (I am performing Hajj and 'Umra as Qiran.) He then bought sacrificial animals at Qudaid and then circumambulated the House and ran between al-Safa' and al-Marwa once (covering both Hajj and Umra), and did not put off Ihram until on the Day of Sacrifice in the month of Dhu'l-Hijja
Urdu Translation
عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لرا ئی کرنے کے لیے مکہ میں پراؤ کیا تو عبد اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کو ئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں ( حجاج بنیوسف اور عبد اللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوجوں ) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جا ئے گی ( آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے ) انھوں نے فر ما یا : "" اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا ( اسموقع پر ) میں بھی آپ کے ساتھ ( شریک سفر ) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حا ئل ہو گئے تھے میں تمھیں گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے عمرے کی نیت کر لی ہے ۔ ( پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرے کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا : "" اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ پھر ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ "" لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "" یقیناً تمھا رے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔ "" پھر ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فر ما یا : "" ان دونوں ( حج و عمرہ ) کا حکم ایک جیسا ہے ۔ اگر میرے اور عمرے کے درمیان کو ئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو ( وہی رکا وٹ ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی ۔ میں تمھیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی لا زم ٹھہرا لیا ہے آپ چلتے رہے حتی کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے پھر آپ نے ان دونوں ( حج اور عمرے ) کے لیے بیت اللہ اور احرا م باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج ( مکمل ) کر کے دونوں کے احرا م سے فارغ ہو ئے ۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (8)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ. قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ ق…
Sunan an-Nasa'i
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أُ��ْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً . ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ …
Sunan an-Nasa'i
خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ…
Hadrat Nafi' reported that 'Abdullah b. Hadrat 'Abdullah and Salim b. Abdullah said to Hadrat 'Abdullah (b. 'Umar) at the time when Hajjaj came to fight against Hadrat Ibn Zubair:There would be no harm if you do not (proceed) for Hajj this year, for we fear that there would be fight among people which would cause obstruction between you and the House, whereupon he said: If there would be obstruction between me and that (Ka'ba), I would do as Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) did. I was with him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) when the infidels of Quraish caused obstructions between him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) and the House. I call you as my witness (to the fact) that I have made 'Umra essential for me. He proceeded until he came to Dhu'l-Hulaifa and pronounced Talbiya for Umra, and said: If the way Is clear forme, I would then complete my 'Umra but If there is some obstruction between me and that (the Ka'ba). I would then do what Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had done (at the occasion of Hudaibiya), and I was with him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)). and then recited:" Verily in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), there is a model pattern for you" (xxxiii. 21). He then moved on until he came to the rear side of al-Baida' and said: There is one command for both of them automatically) (Hajj and Umra). If I am detained (in the performance) of 'Umra, I am ( automatically detained (in the performance) of Hajj (too). I call you as witness that Hajj along with 'Umra I had made essential for me. (I am performing Hajj and 'Umra as Qiran.) He then bought sacrificial animals at Qudaid and then circumambulated the House and ran between al-Safa' and al-Marwa once (covering both Hajj and Umra), and did not put off Ihram until on the Day of Sacrifice in the month of Dhu'l-Hijja
عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لرا ئی کرنے کے لیے مکہ میں پراؤ کیا تو عبد اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کو ئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں ( حجاج بنیوسف اور عبد اللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوجوں ) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جا ئے گی ( آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے ) انھوں نے فر ما یا : "" اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا ( اسموقع پر ) میں بھی آپ کے ساتھ ( شریک سفر ) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حا ئل ہو گئے تھے میں تمھیں گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے عمرے کی نیت کر لی ہے ۔ ( پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرے کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا : "" اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ پھر ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ "" لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "" یقیناً تمھا رے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔ "" پھر ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فر ما یا : "" ان دونوں ( حج و عمرہ ) کا حکم ایک جیسا ہے ۔ اگر میرے اور عمرے کے درمیان کو ئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو ( وہی رکا وٹ ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی ۔ میں تمھیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی لا زم ٹھہرا لیا ہے آپ چلتے رہے حتی کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے پھر آپ نے ان دونوں ( حج اور عمرے ) کے لیے بیت اللہ اور احرا م باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج ( مکمل ) کر کے دونوں کے احرا م سے فارغ ہو ئے ۔