Sahih MuslimThe Book of Mosques and Places of Prayer#1173Sahih
Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ . قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فُسُوِّيَتْ - قَالَ - فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً - قَالَ - فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
English Translation
Hadrat 'Abd al-Warith ibn Sa'id informed us from Abu al-Tayyah al-Duba'i, who said: Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated to us that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to Madinah and stayed in the upper part of Madinah for fourteen nights with a tribe called Banu 'Amr ibn 'Awf. He then sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came with swords around their necks. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: It is as if I can see the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on his mount with Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) riding behind him and the chiefs of Banu al-Najjar around him, until he alighted in the courtyard of Hadrat Abu Ayyub (may Allah be well pleased with him). Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: At that time, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would pray wherever the time of prayer came upon him, and he even prayed in the folds of sheep and goats. Then he (blessings and peace of Allah be upon him) was commanded to build a mosque. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: So he sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came. He said: 'O Banu al-Najjar! Sell these lands of yours to me.' They replied: No, by Allah! We seek their price only from Allah. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: In that place there were palm trees, graves of the polytheists, and ruins. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave the order: the palm trees were cut, the graves of the polytheists were dug out, and the ruins were levelled. The palm trunks were placed in rows facing the qibla and stones were placed on both sides of the doorway. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: The Companions were reciting rajaz verses and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was with them, and they were saying: 'O Allah! There is no good but the good of the Hereafter, so help the Ansar and the Muhajirin.'
Urdu Translation
عبد الوارث بن سعید نے ہمیں ابو تیاح ضبعی سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں اس قبیلے میں فروکش ہوئے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا اور وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا تو وہ لوگ پورے اہتمام سے تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی سواری پر دیکھ رہا ہوں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ نے سواری کا پالان حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا آپ وہیں نماز ادا کر لیتے تھے۔ آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: چنانچہ آپ نے بنو نجار کے لوگوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ حاضر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ''اے بنی نجار! مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت طے کرو۔'' انہوں نے جواب دیا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس جگہ وہی کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں، اس میں کھجوروں کے کچھ درخت، مشرکوں کی چند قبریں اور ویرانہ تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا، کھجوریں کاٹ دی گئیں، مشرکوں کی قبریں اکھیڑی گئیں اور ویرانے کو ہموار کر دیا گیا، اور لوگوں نے کھجوروں کے تنوں کو ایک قطار میں قبلے کی جانب گاڑ دیا اور دروازے کے طور پر دونوں جانب پتھر لگا دیے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اور لوگ (صحابہ) رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ کہتے تھے: اے اللہ! بے شک آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، اس لیے تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ . قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فُسُوِّيَتْ - قَالَ - فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً - قَالَ - فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
Hadrat 'Abd al-Warith ibn Sa'id informed us from Abu al-Tayyah al-Duba'i, who said: Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated to us that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to Madinah and stayed in the upper part of Madinah for fourteen nights with a tribe called Banu 'Amr ibn 'Awf. He then sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came with swords around their necks. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: It is as if I can see the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on his mount with Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) riding behind him and the chiefs of Banu al-Najjar around him, until he alighted in the courtyard of Hadrat Abu Ayyub (may Allah be well pleased with him). Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: At that time, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would pray wherever the time of prayer came upon him, and he even prayed in the folds of sheep and goats. Then he (blessings and peace of Allah be upon him) was commanded to build a mosque. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: So he sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came. He said: 'O Banu al-Najjar! Sell these lands of yours to me.' They replied: No, by Allah! We seek their price only from Allah. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: In that place there were palm trees, graves of the polytheists, and ruins. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave the order: the palm trees were cut, the graves of the polytheists were dug out, and the ruins were levelled. The palm trunks were placed in rows facing the qibla and stones were placed on both sides of the doorway. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: The Companions were reciting rajaz verses and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was with them, and they were saying: 'O Allah! There is no good but the good of the Hereafter, so help the Ansar and the Muhajirin.'
عبد الوارث بن سعید نے ہمیں ابو تیاح ضبعی سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں اس قبیلے میں فروکش ہوئے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا اور وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا تو وہ لوگ پورے اہتمام سے تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی سواری پر دیکھ رہا ہوں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ نے سواری کا پالان حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا آپ وہیں نماز ادا کر لیتے تھے۔ آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: چنانچہ آپ نے بنو نجار کے لوگوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ حاضر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ''اے بنی نجار! مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت طے کرو۔'' انہوں نے جواب دیا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس جگہ وہی کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں، اس میں کھجوروں کے کچھ درخت، مشرکوں کی چند قبریں اور ویرانہ تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا، کھجوریں کاٹ دی گئیں، مشرکوں کی قبریں اکھیڑی گئیں اور ویرانے کو ہموار کر دیا گیا، اور لوگوں نے کھجوروں کے تنوں کو ایک قطار میں قبلے کی جانب گاڑ دیا اور دروازے کے طور پر دونوں جانب پتھر لگا دیے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اور لوگ (صحابہ) رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ کہتے تھے: اے اللہ! بے شک آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، اس لیے تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔