Arabic (Original)
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وجنتيه الرُّمَّانِ فَقَالَ أَبِهَذَا: «أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلُكُمْ حِينَ تنازعوا فِي هَذَا الْأَمر عزمت عَلَيْكُم أَلا تتنازعوا فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ من حَدِيث صَالح المري وَله غرائب يتفرد بهَا لَا يُتَابع عَلَيْهَا قلت: لَكِن يشْهد لَهُ الَّذِي بعده وروى ابْن مَاجَه فِي الْقدر نَحْوَهُ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ
English Translation
Hadrat Abu Huraira said:God’s messenger came out to us when we were arguing about God’s decree. He was angry and his face became so red that it looked as if pomegranate seeds had been burst open on his cheeks. He then said, “Is this what you were commanded to do, or was it for this purpose that I was sent to you? Your predecessors perished only when they argued about this matter. I adjure you, I adjure you, not to argue about it.” Tirmidhi transmitted it, and Ibn Majah transmitted something similar from ‘Amr b. Shu'aib from his father from his grandfather.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ آپ غضبناک ہوئے اور آپ کا چہرہ اقدس اتنا سرخ ہو گیا گویا رخساروں پر انار کے دانے نچوڑ دیے گئے ہوں۔ پھر فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے یا اسی کے لیے میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے کی قومیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب انہوں نے اس معاملے میں جھگڑا کیا۔ میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ اس میں جھگڑا نہ کرو۔ (ترمذی)
