Arabic (Original)
وَعَن المِسور بن مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذَلِكَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِك من من الله جلّ ذكره مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جزعي فَهُوَ من أَجلك وَأجل أَصْحَابِكَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبا لافتديت بِهِ من عَذَاب الله عز وَجل قبل أَن أرَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
English Translation
'Umar (may Allah be pleased with him) reported: On the day of the Battle of Badr, the Messenger of Allah (peace be upon him) looked at the polytheists, who were a thousand, while his Companions were three hundred and nineteen. The Prophet of Allah (peace be upon him) then turned toward the qiblah, stretched out his hands, and began crying out to his Lord: "O Allah, fulfill for me what You have promised me. O Allah, grant me what You have promised me. O Allah, if this small group of Muslims perishes, You will not be worshipped on earth." He continued crying out to his Lord with his hands stretched out, facing the qiblah, until his upper garment fell from his shoulders. Abu Bakr came to him, picked up his garment, placed it on his shoulders, then embraced him from behind and said: "O Prophet of Allah, your supplication to your Lord is sufficient. He will fulfill for you what He has promised." Then Allah revealed: "When you sought help from your Lord and He answered you: I will help you with a thousand angels, following one another." Reported by Muslim.
Urdu Translation
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا: امیر المومنین! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں؟ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے، پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے، انہوں نے فرمایا: تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے، اور تم نے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے، اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے، اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا۔ رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6055]
