Arabic (Original)
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ وَجَاعَ الْعِيَالُ وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ وَهَلَكَتِ الْأَنْعَام فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى الله نستشفع بِاللَّهِ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ». فَمَا زَالَ يسبّح حَتَّى عُرف ذَلِك فِي وُجُوه أَصْحَابه ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا»وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مَثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وإِنه ليئط أطيط الرحل بالراكب»رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
English Translation
Jubayr ibn Mut'im reported: A Bedouin came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "People are in distress, families are suffering, and wealth is destroyed. Ask your Lord for rain, for we seek your intercession with Allah, and we seek Allah's intercession with you." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Glory be to Allah, glory be to Allah!" He kept saying "Glory be to Allah" until the effect was visible on the faces of his Companions. Then he said: "Woe to you! Do you know Who Allah is? Indeed, the might of Allah is far greater than that. He is not asked to intercede with anyone. His Throne is above His heavens" — and he made a gesture with his fingers like a dome over it — "and it creaks under Him as a saddle creaks under its rider." Narrated by Abu Dawud.
Urdu Translation
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا جانیں مشقت میں پڑ گئیں، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے، اموال ختم ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے، آپ اللہ سے ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیں، ہم آپ کے ذریعے اللہ سے سفارش کرتے ہیں اور اللہ کے ذریعے آپ سے سفارش کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”سبحان اللہ! سبحان اللہ!“آپ مسلسل تسبیح بیان کرتے رہے حتی کہ یہ چیز آپ کے صحابہ کے چہروں سے معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تجھ پر افسوس ہے، کسی پر اللہ کو سفارشی نہیں بنایا جاتا، اللہ کی شان اس سے عظیم تر ہے، تجھ پر افسوس ہے، کیا تم جانتے ہو، اللہ (کی عظمت و کبریائی) کیا ہے؟ بے شک اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا جیسے اس پر قبہ ہو۔“وہ اس وجہ سے اس طرح آواز نکالتا ہے جس طرح سوار کی وجہ سے پالان آواز نکالتا ہے۔“اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔[مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5727]
