Arabic (Original)
وَعَن عبد الله بن بُسرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَاب تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ»وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا سُتُورٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»فِي «بَابِ الضِّيَافَةِ»
English Translation
Abdullah ibn Busr reported: When the Messenger of Allah, peace be upon him, came to someone's door, he would not face it directly but would stand to its right or left side and say: "Peace be upon you, peace be upon you." This was because houses at that time did not have curtains over their doors.
Urdu Translation
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے دروازے پر تشریف لاتے تو آپ اپنا چہرہ دروازے کے سامنے نہ کرتے، بلکہ اس کے دائیں کونے یا بائیں کونے پر آتے تو فرماتے:”السلام علیکم! السلام علیکم!“ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”السلام علیکم رحمۃ اللہ“باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4673]
