Arabic (Original)
وَعَن قتادةَ قَالَ: خلقَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِه النجومَ لثلاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بهَا فَمن تأوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ وَتَكَلَّفَ مَالا يَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ: «تكلّف مَالا يعنيه ومالا عِلْمَ لَهُ بِهِ وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الْأَنْبِيَاء وَالْمَلَائِكَة»
English Translation
Qatadah said: "Allah created these stars for three purposes: as decoration for the sky, as missiles against the devils, and as signs by which one finds one's way. Whoever interprets them in any other way has erred, wasted his portion, and burdened himself with what he has no knowledge of." Narrated by al-Bukhari as a mu'allaq (suspended narration). In Razin's narration: "He has burdened himself with what does not concern him and what he has no knowledge of, and what the prophets and angels were unable to know."
Urdu Translation
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ ستارے تین مقاصد کے لیے پیدا فرمائے ہیں، انہیں آسمان کے لیے باعث زینت بنایا، شیاطین کے لیے مار اور علامت و نشانات جن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جس نے ان کے علاوہ کچھ اور بیان کیا اس نے غلطی کی، اپنا حصہ (عمر) ضائع کیا اور ایسی چیز کا تکلف کیا جو وہ نہیں جانتا۔ امام بخاری ؒ نے اسے معلق روایت کیا ہے۔ اور رزین کی روایت میں ہے، اور اس نے ایسی چیز کا تکلف کیا جو نہ تو اس کے متعلق ہے اور نہ اسے اس کا علم ہے اور جس کے علم سے انبیا ؑ اور فرشتے بھی عاجز ہیں۔ رواہ البخاری و رزین۔[مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4602]
