Arabic (Original)
عَن مُعَاوِيَة بن الحكم قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ» قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ: «ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يصدَّنَّكم» . قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاك» . رَوَاهُ مُسلم
English Translation
Mu'awiya b. al-Hakam told that he said, “Messenger of God, there were things we used to do in the pre-Islamic period. We used to visit kahins.” He replied, “Do not visit kdhins” He said, “We used to take omens.” He replied, “That is an idea a man has, but it must not turn you aside from your purposes.” He said, “Among us there were men who practised divination by drawing lines on the ground.” He replied, “There was a prophet who drew lines, so if anyone does it in the same way as he did, that is allowable.” Muslim transmitted it.
Urdu Translation
حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کچھ کام ہیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ ارشاد فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم بدشگونی لیا کرتے تھے۔ ارشاد فرمایا: یہ ایک خیال ہے جو تم میں سے کسی کے دل میں آتا ہے، یہ تمہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں ڈال کر فال نکالتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں ڈالا کرتے تھے، جس کی لکیریں ان کی لکیروں سے مل جائیں تو وہ (درست ہے)۔ مسلم نے روایت کیا۔
