Arabic (Original)
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
English Translation
‘Ubada b. as-Samit said:We swore allegiance to God’s Messenger agreeing to hear and obey in time of difficulty and time of ease, in what we liked and what we disliked, to give way to others’ interests, not to dispute about government with those in power, and to say what was right wherever we were, not fearing for God’s sake what anyone who blamed us might say. A version has, “Not to dispute about government with those in power unless you see evident infidelity regarding which you have a proof from God.” (Bukhari and Muslim.)
Urdu Translation
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں، خوشی اور ناخوشی میں سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، اور اس بات پر کہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے تو بھی صبر کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم اہلِ اقتدار سے ان کے اختیار میں جھگڑا نہ کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں بھی ہوں حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ ایک روایت میں ہے: اور اس بات پر کہ ہم اہلِ اقتدار سے ان کے اختیار میں جھگڑا نہ کریں گے، الا یہ کہ تم کھلا کفر دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل ہو۔ (بخاری و مسلم)
