Arabic (Original)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلَيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ من لَا ولي لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
English Translation
‘A’isha reported God’s Messenger as saying, “If any woman marries without the consent of her guardian her marriage is void, her marriage is void, her marriage is void. If there is cohabitation she gets her dower for the intercourse her husband has had. If there is a dispute*, the sultan is the guardian of one who has none.” * i.e., among guardians, Mirqat iii. 418 says that if their dispute would keep a woman from being married, they are treated as non-existent. Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah and Darimi transmitted it.
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ پھر اگر شوہر نے اس سے صحبت کر لی ہو تو اس کے لیے مہر ہے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کے بدلے میں۔ اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو تو حاکم اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (احمد، ترمذی، حضرت ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
