Arabic (Original)
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا " وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَو شَهِيدا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
English Translation
Sa‘d reported God’s messenger as saying, “I declare sacred the territory between the two lava plains of Medina, so that its large thorn trees may not be cut down, or its game killed.” He also said, “Medina is best for them if they only knew. No one leaves it through dislike of it without God putting in it someone better than he in place of him, and no one will remain there in spite of its hardship and distress without my being an intercessor (or witness) on his behalf on the day of resurrection." Muslim transmitted it.
Urdu Translation
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کو حرام قرار دیتا ہوں کہ اس کے بڑے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس کا شکار مارا جائے۔ اور فرمایا: مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے۔ جو بھی اس سے بے رغبتی کے ساتھ اسے چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر شخص لائے گا، اور جو بھی اس کی تنگی اور مشقت پر ثابت قدم رہے گا قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا یا گواہ ہوں گا۔ (مسلم)
