Arabic (Original)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ كَذبَنِي ابْن آدم وَلم يكن لَهُ ذَلِك وَشَتَمَنِي وَلم يكن لَهُ ذَلِك أما تَكْذِيبه إيَّايَ أَن يَقُول إِنِّي لن أُعِيدهُ كَمَا بَدأته وَأما شَتمه إيَّايَ أَن يَقُول اتخذ الله ولدا وَأَنا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يكن لي كُفؤًا أحد (لَمْ يَلِدْ وَ��َمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفؤًا أحد) وَفِي رِوَايَة عَن ابْنِ عَبَّاسٍ: " وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لِي وَلَدٌ وَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا "
English Translation
Hadrat Abu Huraira reported that God’s messenger declared that God said, “The son of Adam (upon him be peace) has accused me of falsehood, which he had no right to do; and he has reviled me, which he had no right to do. His accusation of falsehood is in his saying, ‘He will not bring me back to life as He created me’, whereas the original act of creation is no easier for me than to bring him back to life. His reviling of me is in his saying, ‘God has taken a son’, whereas I am the One, to whom men repair, who has not begotten and has not been begotten, and to whom no one is equal.” A version from Ibn ‘Abbas has:“His reviling of me is his statement that I have a son. Far be it from me that I should have a consort or a son.” Bukhari transmitted it.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اسے ایسا کرنے کا حق نہ تھا، اور اس نے مجھے برا بھلا کہا حالانکہ اسے ایسا کرنے کا حق نہ تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہے: اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جیسے اس نے مجھے پہلی بار پیدا کیا۔ اور مجھے برا بھلا کہنا یہ ہے کہ وہ کہے: اللہ نے بیٹا بنایا ہے، حالانکہ میں صمد ہوں جس نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے: مجھے برا بھلا کہنا یہ ہے کہ وہ کہے: میرا بیٹا ہے، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ بیوی یا بیٹا رکھوں۔ (بخاری)
