Arabic (Original)
عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَة عَن قَول الله تبَارك وَتَعَالَى: (إِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ الله) وَعَنْ قَوْلِهِ: (مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ) فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَذِه معاتبة الله العَبْد فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي يَدِ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التبر الْأَحْمَر من الْكِير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
English Translation
Hadrat ‘Ali b. Zaid quoted Umayya as saying that she asked ‘A’isha about the words of God who is great and glorious, "Whether you publish what is in your minds or conceal it, God will call you to account for it,” ( Qur’an, ii, 284) and His words, "If anyone does evil he will be requited for it.”(Qur’an, iv, 123). She replied that no one had asked her about them since she had asked God’s messenger and received the reply, "This is God’s rebuke of His servant, by means of fever or misfortune with which He afflicts him, even such a matter as something he puts in his sleeve and grieves for when he loses it. The result is that the servant comes out of his sins as the pure gold comes out of the crucible." Tirmidhi transmitted it.
Urdu Translation
حضرت علی بن زید، حضرت امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد 'چاہے تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا' (البقرہ: ۲۸۴) کے بارے میں پوچھا۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے فرمایا: جب سے مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں بتایا ہے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی پکڑ ہے، بخار کے ذریعے یا مصیبت کے ذریعے، حتیٰ کہ وہ چیز جو وہ اپنے سینے کی جیب میں رکھتا ہے اور اسے کھو دیتا ہے پھر پریشان ہوتا ہے، پھر اسے پا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے جیسے سونا بھٹی سے صاف ہو کر نکلتا ہے۔ (ترمذی، احمد)
