Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يُلِيطُ أَوْلاَدَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنِ ادَّعَاهُمْ فِي الإِسْلاَمِ فَأَتَى رَجُلاَنِ كِلاَهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَائِفًا فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَقَالَ الْقَائِفُ لَقَدِ اشْتَرَكَا فِيهِ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ دَعَا الْمَرْأَةَ فَقَالَ أَخْبِرِينِي خَبَرَكِ فَقَالَتْ كَانَ هَذَا - لأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ - يَأْتِينِي . وَهِيَ فِي إِبِلٍ لأَهْلِهَا فَلاَ يُفَارِقُهَا حَتَّى يَظُنَّ وَتَظُنَّ أَنَّهُ قَدِ اسْتَمَرَّ بِهَا حَبَلٌ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ دِمَاءٌ ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا هَذَا - تَعْنِي الآخَرَ - فَلاَ أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ قَالَ فَكَبَّرَ الْقَائِفُ فَقَالَ عُمَرُ لِلْغُلاَمِ وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ .
English Translation
Malik related to me from Yahya (upon him be peace) ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Umar ibn al-Khattab used to attach the children of the Jahiliyya to whoever claimed them in Islam. Two men came and each of them claimed a woman's child. Umar ibn al-Khattab summoned a person who scrutinized features and he looked at them. The scrutinizer said, "They both share in him." Umar ibn al-Khattab hit him with a whip. Then he summoned the woman, and said, "Tell me your tale." She said, "It was this one (indicating one of the two men) who used to come to me while I was with my people's camels. He did not leave me until he thought and I thought that I was pregnant. Then he left me, and blood flowed from me, and this other one took his place. I do not know from which of them the child is." The scrutinizer said, "Allah is greater." Umar said to the child, "Go to whichever of them you wish."
Urdu Translation
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر جاہلیت کے بچوں کو جو ان کا دعوی کرتا اسلام کے زمانے میں اسی سے ملا دیتے ایک بار دو آدمی دعوی کرتے ہوئے آئے ایک لڑکے کا حضرت عمر نے قائف کو بلایا قائف نے دیکھ کر کہا اس لڑکے میں دونوں شریک ہیں حضرت عمر نے قائف کو درے سے مارا پھر اس عورت کو بلایا اور کہا تو اپنا حال مجھ سے کہہ اس نے ایک مرد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرے پاس آتا تھا اور میں اپنے لوگوں کے اونٹوں میں ہوتی تھی تو وہ مجھ سے الگ نہیں ہوتا تھا بلکہ مجھ سے چمٹا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ بھی اور بھی بھی گمان کرتے حمل رہ جانے کا پھر جاتا اور مجھے خون آیا کرتا تب دوسرا مرد آتا وہ بھی صحبت کرتا میں نہیں جانتی ان دونوں میں سے یہ کسی کا نطفہ ہے قائف یہ سن کر خوشی کے مارے پھول گیا حضرت عمر نے کہا لڑکے سے تجھے اختیار ہے جس سے چاہے ان دنوں میں سے مولات کر لے ۔
