Arabic (Original)
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَلاَ تَجُوزُ عَلَى غَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لاَ تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا فَإِنِ افْتَرَقُوا فَلاَ شَهَادَةَ لَهُمْ إِلاَّ أَنْ يَكُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَى شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُوا .
English Translation
Yahya (upon him be peace) said, "Malik said from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr gave judgment based on the testimony of children concerning the injuries between them." Malik said, "The generally agreed on way of doing things in our community is that the testimony of children is permitted concerning injuries between them. It is not accepted about anything else. It is only permitted between them if they testify before they leave the scene of the incident and have been deceived or instructed. If they leave the scene, they have no testimony unless they call just witnesses to witness their testimony before they leave."
Urdu Translation
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حضرت زبیر لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے ۔ کہا مالک نے لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہوگئے ہوں مکر نہ کیا ہو اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں ۔
