Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الأَحْنَفِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ - قَالَ - فَدَعَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا سِيَاطٌ مَوْضُوعَةٌ وَإِذَا قَيْدَانِ مِنْ حَدِيدٍ وَعَبْدَانِ لَهُ قَدْ أَجْلَسَهُمَا فَقَالَ طَلِّقْهَا وَإِلاَّ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ فَعَلْتُ بِكَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ فَقُلْتُ هِيَ الطَّلاَقُ أَلْفًا . قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَأَدْرَكْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي فَتَغَيَّظَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ وَإِنَّهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ . قَالَ فَلَمْ تُقْرِرْنِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ أَمِيرٌ عَلَيْهَا - فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي وَبِالَّذِي قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ . وَكَتَبَ إِلَى جَابِرِ بْنِ الأَسْوَدِ الزُّهْرِيِّ - وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - يَأْمُرُهُ أَنْ يُعَاقِبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَنْ يُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي - قَالَ - فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَهَّزَتْ صَفِيَّةُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَتِي حَتَّى أَدْخَلَتْهَا عَلَىَّ بِعِلْمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمَ عُرْسِي لِوَلِيمَتِي فَجَاءَنِي .
English Translation
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Thabit ibn al-Ahnaf that he married an umm walad of Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab. He said, "Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab summoned me and I went to him. I came in upon him and there were whips and two iron fetters placed there, and two of his slaves whom he had made to sit there. He said, 'Divorce her, or by He by whom one swears, I will do such-and-such to you!' I said, 'It is divorce a thousand times.' Then I left him and I saw Abdullah ibn Umar on the road to Makka and I told him about my situation. Abdullah ibn Umar was furious, and said, 'That is not divorce, and she is not haram for you, so return to your home.' I was still not at ease so I went to Abdullah ibn az-Zubayr who was the Amir of Makka at that time. I told him about my situation and what Abdullah ibn Umar had said to me. Abdullah ibn az-Zubayr said to me, 'She is not haram for you, so return to your home,' and he wrote to Jabir ibn al-Aswad az-Zuhra who was the Amir of Madina and ordered him to punish Abdullah ibn Abdar-Rahman and to have him leave me and my family alone. I went to Madina, and Hadrat Safiyya, the wife of Abdullah ibn Umar fitted out my wife so that she could bring her to my house with the knowledge of Abdullah ibn Umar. Then I invited Abdullah ibn Umar on the day of my wedding to the wedding feast and he came."
Urdu Translation
ثابت احنف نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے نکاح کیا ان کو عبداللہ نے بلایا جو عبدالرحمن بن زید بن خطاب کے بیٹے تھے ثابت نے کہا میں ان کے پاس گیا دیکھا تو کوڑے رکھے ہوئے ہیں اور لوہے کی دو بیڑیاں رکھی ہوئیں ہیں اور دو غلام حاضر ہیں عبداللہ نے مجھ سے کہا تو اس ام ولد کو طلاق دے دے نہیں تو میں تیرے ساتھ ایسا کروں گا میں نے کہا ایسا ہے تو میں نے اس کو ہزار طلاق دیں جب میں ان کے پاس سے گزرا تو مکہ کے راستے میں حضرت عبداللہ بن عمر مجھ کو ملے میں نے ان سے ذکر کیا وہ غصے ہوئے اور کہا یہ طلاق نہیں ہے اور وہ ام ولد تیرے اوپر حرام نہیں ہے تو اپنے گھر میں جا ثابت نے کہا مجھ کو ان سے تسکیں نہ ہوئی یہاں تک کہ کہ میں مکہ میں عبداللہ بن حضرت زبیر کے پاس آیا اور وہ ان دنوں میں مکہ کے حاکم تھے میں نے ان سے یہ قصہ بیان کیا اور حضرت عبداللہ بن عمر نے جو کہا تھا وہ بھی ذکر کیا عبداللہ بن حضرت زبیر نے کہا بے شک وہ عورت تجھ پر حرام نہیں ہوئی تو اپنی بی بی کے پاس جا حضرت جابر بن اسود زہری جو مدینہ کے حاکم تھے ان کو خط لکھا کہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دو اور ان کی بی بی کو ان کے حوالے کر دو ثابت کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو حضرت عبداللہ بن عمر کی بی بی صفیہ نے میری عورت کو بنا سنوار کے میرے پاس بھیجا عبداللہ بن معمر کی اطلاع سے پھر میں نے ولیمہ کی دعوت کی اور حضرت عبداللہ بن عمر کو بلایا وہ دعوت میں آئے ۔
