Arabic (Original)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الْعِرَاقَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِمْرَأَتِهِ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَسْأَلُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْفِرَاقَ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هُوَ مَا أَرَدْتَ .
English Translation
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab had heard in a letter from Iraq that a man said to his wife, "Your rein is on your withers (i.e. you have free rein)." Umar ibn al-Khattab wrote to his governor to order the man to come to him at Makka at the time of hajj. While Umar was doing tawaf around the House, a man met him and greeted him. Umar asked him who he was, and he replied that he was the man that he had ordered to be brought to him. Umar said to him, "I ask you by the Lord of this building, what did you mean by your statement, 'Your rein is on your withers.'?" The man replied, "Had you made me swear by other than this place, I would not have told you the truth. I intended separation by that." Umar ibn al- Khattab said, "It is what you intended."
Urdu Translation
حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔
