Arabic (Original)
963 صحيح حديث عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، خَطَبَ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلاَّ كِتَابُ اللهِ وَمَا فِي هذِهِ الصَّحِيفَةِ، فَنَشَرَهَا؛ فَإِذَا فِيهَا: أَسْنَانُ الإِبِلِ، وَإِذَا فِيهَا: الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَة اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً، وَإِذَا فِيهِ: ذِمَّةُ الْمُسْلِمينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً، وَإِذَا فِيهَا: مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً
English Translation
Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) delivered a sermon from a pulpit made of bricks. He had a sword from which a parchment was hanging. He said: "By Allah, we have no book to read other than the Book of Allah and what is in this parchment." He unrolled it, and it contained: the ages of camels for blood money; and that Madinah is sacred from Mount Ayr to such-and-such a place — whoever introduces an innovation therein, upon him is the curse of Allah, the angels, and all mankind; Allah will accept from him neither obligatory nor supererogatory worship; and that the covenant of protection of the Muslims is one, upheld by the least of them — whoever betrays a Muslim's covenant, upon him is the curse of Allah, the angels, and all mankind; and that whoever takes as allies a people without the permission of his own patrons, upon him is the curse of Allah, the angels, and all mankind; Allah will accept from him neither obligatory nor supererogatory worship.
Urdu Translation
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اینٹ سے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، آپ تلوار لیے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا، آپ نے فرمایا:”واللہ! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوائے اس صحیفہ کے۔“پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ”مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے، پس اس میں جو کوئی نئی بات (بدعت) نکالے گا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس کی کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا“اور اس میں یہ بھی تھا کہ”مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے، اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت“اور اس میں یہ بھی تھا کہ”جس نے کسی سے اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب العتق/حدیث: 963]
