Arabic (Original)
88 صحيح حديث حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رضي الله عنه فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ: أَنَا كَمَا قَالَهُ، قَالَ: إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيءٌ؛ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْيُ، قَالَ: لَيْسَ هذَا أُرِيدُ وَلكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ: يُكْسَرُ، قَالَ: إِذًا لاَ يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ؛ فَقَالَ: الْبَاب عُمَرُ
English Translation
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The souls are like drafted soldiers; those of them that recognized each other will be in harmony, and those that did not recognize each other will be in discord."
Urdu Translation
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا: میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے فتنوں کو معلوم کرنے میں بہت بے باک تھے، میں نے کہا کہ:”انسان کے گھر والے، مال، اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے۔ اس پر میں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے، آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا؟ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ پھر تو وہ کبھی بھی بند نہیں ہو سکے گا۔ (شقیق راویِ حدیث نے کہا کہ) ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں، بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا، میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ (راوی کا کہنا ہے) ہمیں اس کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازہ سے کیا مراد ہے) اس لیے ہم نے مسروق رحمہ اللہ سے کہا (کہ وہ پوچھیں)، انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 88]
