Arabic (Original)
813 صحيح حديث أَسْمَاءَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمَعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: لاَ؛ فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا؛ فَارْتَحَلْنَا، وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
English Translation
Narrated Asma' (may Allah be pleased with her): Abdullah, her freed slave, reported from Asma' that she stopped on the night of Jam' (Muzdalifah) near al-Muzdalifah. She stood in prayer for a while, then asked: "O my son, has the moon set?" I said: "No." She prayed for another while, then asked: "Has the moon set?" I said: "Yes." She said: "Then depart." So we departed and traveled until she stoned the Jamrah, then returned and prayed Fajr at her camp. I said to her: "O dear one, I think we have arrived too early." She said: "O my son, the Messenger of Allah (peace be upon him) gave permission to women to do so."
Urdu Translation
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے غلام عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رات کی رات میں ہی مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا: بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر بعد پھر پوچھا: کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو (منی کو)، چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ (منی میں) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی، میں نے کہا: جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز صبح پڑھ لی؟ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے”عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 813]
