Arabic (Original)
772 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ:(لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذلِكِ، فَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضى طَوافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
English Translation
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): He intended to perform Hajj in the year that al-Hajjaj besieged Ibn al-Zubayr. It was said to him: "There is likely to be fighting between the people, and we fear they may prevent you." He said: "In the Messenger of Allah you have an excellent example (Quran 33:21). I will do as the Messenger of Allah (peace be upon him) did. I call you to witness that I have made Umrah obligatory upon myself." Then he set out until, when he was at the outskirts of al-Bayda', he said: "The matter of Hajj and Umrah is the same. I call you to witness that I have made Hajj obligatory upon myself along with my Umrah." He brought a sacrificial animal which he had purchased at Qudayd, and did nothing more. He did not slaughter and did not come out of Ihram from anything that was forbidden, and he neither shaved nor cut his hair until the Day of Sacrifice, when he slaughtered and shaved. He considered that he had completed the Tawaf for both Hajj and Umrah with his first Tawaf. Ibn Umar said: "This is what the Messenger of Allah (peace be upon him) did."
Urdu Translation
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب اس سال حج کا ارادہ کیا جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں لڑنے آیا تھا، تو آپ سے کہا گیا کہ مسلمانوں میں باہم جنگ ہونے والی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ آپ کو حج سے روک دیا جائے، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾[سورة الأحزاب: 21](رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی بہترین نمونہ ہے)، ایسے وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کیا تھا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر آپ چلے اور جب بیداء کے میدان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی طرح کے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے، آپ نے ایک قربانی بھی ساتھ لے لی جو مقام قدید سے خریدی تھی، اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا، دسویں تاریخ سے پہلے نہ آپ نے قربانی کی نہ کسی ایسی چیز کو اپنے لیے جائز کیا جس سے (احرام کی وجہ سے) آپ رک گئے تھے، نہ سر منڈوایا نہ بال ترشوائے، دسویں تاریخ میں آپ نے قربانی کی اور بال منڈوائے، آپ کا یہی خیال تھا کہ آپ نے ایک طواف سے حج اور عمرہ دونوں کا طواف ادا کر لیا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی اسی طرح کیا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 772]
