Arabic (Original)
766 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ؛ فَقَالَ: أَحَجَجْتَ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ قُلْتُ: لَبَّيْكَ، بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ؛ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلاَفَةِ عُمَرَ رضي الله عنه، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ
English Translation
Narrated Abu Musa (may Allah be pleased with him): "I came to the Messenger of Allah (peace be upon him) while he was at al-Batha'. He said: 'Have you performed Hajj?' I said: 'Yes.' He said: 'With what did you assume Ihram?' I said: 'Labbayk, with the same Ihram as the Prophet (peace be upon him).' He said: 'Well done. Go and perform Tawaf of the House and Sa'y between Safa and Marwah.' Then I went to a woman from Banu Qays who deloused my head, and then I assumed Ihram for Hajj. I used to give this ruling to the people until the caliphate of Umar (may Allah be pleased with him). When I mentioned it to him, he said: 'If we follow the Book of Allah, it commands us to complete (the Hajj and Umrah). And if we follow the Sunnah of the Messenger of Allah (peace be upon him), the Messenger of Allah (peace be upon him) did not come out of Ihram until the sacrificial animal reached its place.'"
Urdu Translation
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں جب حاضر ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمبطحاء میں تھے (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے)۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟“میں نے کہا کہ ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے؟“میں نے کہا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے احرام کی طرح احرام باندھا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو نے اچھا کیا اب جا۔“چنانچہ (مکہ پہنچ کر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالیں، اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری، اس کے بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا، پھر جب میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہیے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی سنت پر بھی عمل کرنا چاہیے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمقربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 766]
