Arabic (Original)
763 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابَهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْىٌ، غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لأَحْلَلْتُ وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ؛ قَالَ: فَلَمَّا طَهُرَتْ وَطَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّة وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: لاَ، بَلْ لِلأَبَدِ
English Translation
Narrated Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both): The Prophet (peace be upon him) and his Companions assumed Ihram for Hajj, and none of them had a sacrificial animal except the Prophet (peace be upon him) and Talhah. Ali had come from Yemen with a sacrificial animal and said: "I assumed Ihram with the same as the Messenger of Allah (peace be upon him) assumed Ihram." The Prophet (peace be upon him) permitted his Companions to convert their Hajj to Umrah, perform Tawaf of the House, cut their hair short, and come out of Ihram — except those who had sacrificial animals. They said: "Shall we go to Mina with our private parts dripping?" This reached the Prophet (peace be upon him), and he said: "Had I known beforehand what I know now, I would not have brought the sacrificial animal. Were it not that I have the sacrificial animal with me, I would have come out of Ihram." Aishah menstruated, so she performed all the rites except Tawaf of the House. When she became pure and performed Tawaf, she said: "O Messenger of Allah, will you all depart with both Umrah and Hajj while I depart with only Hajj?" He ordered Abdur-Rahman ibn Abi Bakr to go with her to al-Tan'im, and she performed Umrah after Hajj in Dhul-Hijjah. Suraqah ibn Malik ibn Ju'shum met the Prophet (peace be upon him) at al-Aqabah while he was stoning it and said: "Is this exclusively for you, O Messenger of Allah?" He said: "No, it is forever."
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا تھا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی، انہی دنوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کے ساتھ بھی قربانی تھی، انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اصحاب کو (مکہ میں پہنچ کر) اس کی اجازت دی تھی کہ”اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کریں اور بیت اللہ کا طواف (اور صفا مروہ کی سعی) کر کے بال ترشوا لیں اور احرام کھول دیں، لیکن وہ لوگ ایسا نہ کریں جن کے ساتھ قربانی ہو“، اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم منیٰ سے حج کے لیے اس طرح سے جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو، یہ بات رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتک پہنچی تو آپ نے فرمایا:”جو بات اب ہوئی اگر پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو (افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد) میں بھی احرام کھول دیتا“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (اس حج میں) حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے انہوں نے اگرچہ تمام مناسک ادا کیے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا، پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور طواف کر لیا تو عرض کی: یا رسول اللہ! سب لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں، آپ نے اس پر عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا:”انہیں ہمراہ لے کر تنعیم جائیں اور عمرہ کرا لائیں“، یہ عمرہ حج کے بعد ذی الحجہ کے ہی مہینے میں ہوا تھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے تو مالک بن جعشم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ ہی کے لیے ہے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 763]
