Arabic (Original)
738 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا، لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا قَالَ: وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَة قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَّا الأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أُنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
English Translation
Narrated Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both): Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar: "O Abu Abdur-Rahman, I have seen you doing four things that none of your companions do." He said: "What are they, O Ibn Jurayj?" He said: "I have seen that you only touch the two Yemeni corners (of the Ka'bah); I have seen you wear tanned leather sandals; I have seen you dye with yellow; and I have seen that when you are in Makkah, people assume Ihram when they see the new moon, but you do not assume Ihram until the Day of Tarwiyah (8th Dhul-Hijjah)." Abdullah replied: "As for the corners, I never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) touch any except the two Yemeni corners. As for the tanned leather sandals, I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) wearing sandals without hair and performing ablution in them, so I love to wear them. As for the yellow dye, I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) dyeing with it, so I love to dye with it. As for assuming Ihram, I never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) assume Ihram until his mount set out with him."
Urdu Translation
عبیداللہ بن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنہیں آپ کے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے: اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو۔ (دوسرے) میں نے آپ کو سبتی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور (تیسرے) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور (چوتھی بات) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے، لوگ (ذی الحجہ کا) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں (اور) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام باندھ لیتے ہیں۔ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ (دوسرے) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے سبتی جوتے، تو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے، تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا، جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 738]
