Arabic (Original)
637 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ؛ قَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ إِنَّ هذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللهِ فَقُلْتُ: وَاللهِ لأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللهُ وَرَسُولُهُ رَحِمَ اللهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هذَا فَصَبَرَ
English Translation
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: On the day of Hunayn, the Prophet (peace be upon him) favored some people in the distribution. He gave al-Aqra ibn Habis a hundred camels, and Uyaynah ibn Hisn a hundred. He gave some people from the notables of the Arabs and favored them that day. A man said: "By Allah, this distribution was not done justly, nor was the face of Allah intended by it." I said: "By Allah, I will tell the Messenger of Allah." I went to him and informed him. His face changed and he said: "Who will be just if Allah and His Messenger are not just?" Then he said: "May Allah have mercy on Musa (Moses) — he was harmed with more than this, yet he was patient."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے (غنیمت کی) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما کو سو اونٹ دیے، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو دیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا، اس پر ایک شخص نے کہا کہ خدا کی قسم! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال ہوا، میں نے کہا: واللہ! اس کی خبر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ضرور دوں گا، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سن کر فرمایا:”اگر اللہ اور اس کا رسول بھی عدل نہ کریں تو پھر کون عدل کرے گا؟ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھوں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 637]
