Arabic (Original)
598 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ؛ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ؛ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هذَا، وَمَا فَعَلَ هذَا الآخَرُ إِلاَّ رِئَاءً فَنَزَلَتْ(الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ)الآيَةَ
English Translation
Narrated Abu Mas'ud: When we were ordered to give charity, we used to work as porters. Abu Aqil came with half a sa'. Another man came with more than that. The hypocrites said: "Allah has no need for this one's charity, and the other only did it to show off." Then the verse was revealed: "Those who criticize the believers who give charity voluntarily and those who find nothing to give except their effort."
Urdu Translation
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے (اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے) چنانچہ ابو عقیل رضی اللہ عنہ سے مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ لائے اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس (یعنی ابو عقیل) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی کہ﴿یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفلی صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ بھی ان (مذاق اڑانے والوں) سے تمسخر کرے گا، ان کے لیے دردناک عذاب ہے﴾[سورة التوبة: 79]۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 598]
