Arabic (Original)
531 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ: إِنَّ للهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيأْتِيَنَّهَا؛ فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرِجَالٌ؛ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا شَنٌّ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هذَا فَقَالَ: هذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءُ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Hasten the funeral. If the deceased was righteous, you are forwarding him to good. If he was otherwise, then you are putting down evil from your necks."
Urdu Translation
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ایک صاحبزادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے اس لیے آپصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ«إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ»”اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔“پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے قسم دے کر اپنے یہاں بلوا بھیجا، اب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجانے کے لیے اٹھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، بچے کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے کیا گیا جس کی جانکنی کا عالم تھا جیسے پرانا مشکیزہ ہوتا ہے (اور پانی کے ٹکرانے کی اندر سے آواز آتی ہے اسی طرح جانکنی کے وقت بچہ کے حلق سے آواز آ رہی تھی)، یہ دیکھ کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (نیک) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 531]
