Arabic (Original)
523 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائَشَةُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ ظَهْرَانَي الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرَّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
English Translation
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that a Jewish woman came to ask her something and said: "May Allah protect you from the punishment of the grave." A'ishah then asked the Messenger of Allah (peace be upon him): "Are people punished in their graves?" He said: "I seek refuge in Allah from that." Then one morning the Messenger of Allah rode out, and the sun eclipsed. He returned at mid-morning, passed through his chambers, and stood in prayer. The people stood behind him. He stood for a very long time, then bowed for a long time. Then he raised his head and stood for a long time — shorter than the first. Then he finished and the sun had cleared. He said: "Indeed, you will be tested in your graves."
Urdu Translation
ایک یہودی عورت نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب بھی ہو گا؟ اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں اللہ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔“پھر ایک مرتبہ صبح کو (کہیں جانے کے لیے) آپصلی اللہ علیہ وسلمسوار ہوئے، اس کے بعد سورج گرہن لگا، آپصلی اللہ علیہ وسلمدن چڑھے واپس ہوئے اور اپنی بیویوں کے حجروں سے گزرتے ہوئے (مسجد میں) نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، صحابہ نے بھی آپصلی اللہ علیہ وسلمکی اقتدا میں نیت باندھ لی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے بہت ہی لمبا قیام کیا، پھر رکوع بھی بہت طویل کیا، اس کے بعد کھڑے ہوئے اور اب کی دفعہ قیام پھر لمبا کیا لیکن پہلے سے کچھ کم، پھر رکوع کیا اور اس دفعہ بھی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے، اب آپصلی اللہ علیہ وسلمپھر دوبارہ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کچھ کم، پھر ایک لمبا رکوع کیا لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قیام میں اب کی دفعہ بھی بہت دیر تک رہے لیکن پہلے سے کم وقت تک (چوتھی مرتبہ)، پھر رکوع کیا اور بہت دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر، رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ میں چلے گئے، آخر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس طرح نماز پوری کر لی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو چاہا آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا، اسی خطبہ میں آپصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ:”عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 523]
