Arabic (Original)
521 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَع رُكوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ؛ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِثْلَ ذلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ؛ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ
English Translation
A'ishah (may Allah be pleased with her) said: The sun eclipsed during the lifetime of the Prophet (peace be upon him). He went out to the mosque and the people lined up behind him. He said the takbir, then recited a lengthy recitation, then said the takbir and bowed for a long time. Then he said: "Allah hears the one who praises Him." He stood without prostrating and recited a lengthy recitation — shorter than the first. Then he said the takbir, bowed for a long time — shorter than the first bowing. Then he said: "Allah hears the one who praises Him." Then he prostrated. Then he did the same in the second rak'ah, completing four bowings and four prostrations. The sun cleared before he finished. Then he stood and addressed the people, praising Allah and saying: "The sun and moon are two of the signs of Allah. They do not eclipse for the death or birth of anyone. When you see that, hasten to prayer."
Urdu Translation
رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی اہلیہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی میں سورج گرہن لگا، اسی وقت آپ مسجد میں تشریف لے گئے، لوگوں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھے صف باندھی، آپ نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے، پھر تکبیر کہی اور بہت دیر لمبا رکوع کیا، پھر«سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا (رکوع سے اٹھنے کے بعد)، پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے لیکن پہلی قراءت سے کم، پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، یہ رکوع بھی پہلے سے کم تھا، اب«سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“اور«رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“کہا، پھر سجدے میں گئے، آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، (ان دونوں رکعات میں) پورے چار رکوع اور چار سجدے کیے، نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا، نماز کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی، پھر فرمایا:”سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں، ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا، لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 521]
