Arabic (Original)
510 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدأُ بِهِ الصَّلاَةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُريدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا، قَطَعَهُ؛ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ، أَمَرَ بِهِ؛ ثُمَّ يَنْصَرِف قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ، وَهُوَ أَميرُ الْمَديِنةِ، فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُريدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَجَبَذَنِي، فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ؛ فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللهِ فَقَالَ: أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ؛ فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ، وَاللهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ
English Translation
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) used to go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. The first thing he would begin with was the prayer. Then he would turn to face the people while they were sitting in their rows, and he would admonish them, advise them, and give them commands. If he wanted to dispatch an expedition, he would do so; or if he wanted to give a command, he would give it. Then he would leave. Abu Sa'id said: The people continued upon this practice.
Urdu Translation
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمعید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن (مدینہ کے باہر) عید گاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپصلی اللہ علیہ وسلملوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے، تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپصلی اللہ علیہ وسلمانہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے، اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے، کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے، اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا، میں اس کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے نکلا، ہم جب عید گاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا، جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے (خطبہ دینے کے لیے) چڑھے، اس لیے میں نے اس کا دامن پکڑ کر کھینچا لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا، میں نے اس سے کہا کہ واللہ! تم نے (نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی سنت کو) بدل دیا، مروان نے کہا کہ اے ابو سعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو، ابو سعید نے کہا کہ بخدا! میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا، مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کر دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 510]
