Arabic (Original)
505 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثَمَّ يُخْطَبُ بَعْد خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حينَ يُجْلِسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ، حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ، مَعَهُ بِلاَلٌ فَقَالَ:(يَأَيُّهَا النَّبيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ)الآيَةَ ثُمَّ قَالَ حينَ فَرَغَ مِنْهَا: آنْتُنَّ عَلَى ذلِكِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ، لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا: نَعَمْ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلاَلٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءً أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said: I witnessed the Eid al-Fitr prayer with the Prophet (peace be upon him), Abu Bakr, Umar, and Uthman. They all prayed before the sermon, then the sermon was delivered after. The Prophet (peace be upon him) came out — and it is as if I can see him now gesturing with his hand. He then walked through the rows until he came to the women, with Bilal accompanying him. He recited: "O Prophet, when believing women come to you pledging allegiance..." (60:12). Then when he finished, he asked: "Are you upon that?" One woman from among them answered: "Yes."
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید الفطر کی نماز پڑھی ہے، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(منبر سے) اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے جب آپصلی اللہ علیہ وسلملوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمصفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی امر شرعی میں تیری نافرمانی نہ کریں گی، تو تو ان سے بیعت کر لیا کر اور ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کر، بے شک اللہ تعالیٰ بخشش اور معافی کرنے والا ہے﴾[سورة الممتحنة: 12]۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا:”کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟“ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں، ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 505]
