Arabic (Original)
477 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَزْهَرَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا: اقْرأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ، وَقُلْ لَهَا: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْهُمَا قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي؛ فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ، قُولِي لَهُ: تَقُولُ لَكَ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتأْخِرِي عَنْهُ فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ
English Translation
Narrated Umm Salamah, from Kurayb: Ibn Abbas, al-Miswar ibn Makhramah, and Abd al-Rahman ibn Azhar sent him to Aisha. They said: "Give her our greetings and ask her about the two rak'ahs after the Asr prayer." She said: "Ask Umm Salamah." He went to Umm Salamah, and she said: "I heard the Prophet (peace be upon him) forbid them. Then I saw him pray them. He entered upon me after he prayed the Asr, and there were some Ansari women with me. He prayed those two rak'ahs. I sent a servant girl to him saying: 'Stand beside him and tell him that Umm Salamah says: O Messenger of Allah, I heard you forbid these two rak'ahs, yet I see you praying them.' If he gestures, step back. The servant girl did so, and he gestured, so she stepped back. When he finished, he said: 'O daughter of Abu Umayyah, you asked about the two rak'ahs after Asr. Some people from the Abd al-Qays tribe came and distracted me from the two rak'ahs after Dhuhr — these are those two rak'ahs.'"
Urdu Translation
سیدنا کریب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہم سب کا سلام کہنا اور اس کے بعد عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا، انہیں یہ بھی بتا دینا کہ ہمیں خبر ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ان دو رکعات سے منع کیا ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان رکعات کے پڑھنے پر لوگوں کو مارا بھی تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغام پہنچایا، اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کی خدمت میں واپس ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو نقل کر دی، انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا انہی پیغامات کے ساتھ جن کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھیجا تھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے کہ”آپ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے تھے“لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ عصر کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمخود یہ دو رکعات پڑھ رہے ہیں، عصر کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلممیرے گھر تشریف لائے (اور دو رکعت ادا کرنے لگے)، میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اس لیے میں نے ایک باندی کو آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں بھیجا اور میں نے اس سے کہہ دیا کہ وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ایک طرف ہو کر یہ پوچھے کہ ام سلمہ کہتی ہے کہ”یا رسول اللہ! آپ تو ان دو رکعات سے منع کرتے تھے حالانکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود انہیں پڑھتے ہیں؟“اگر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمہاتھ سے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ باندی نے پھر اسی طرح کیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی، پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلم(نماز سے) فارغ ہوئے تو (آپ نے ام سلمہ سے) فرمایا:”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے متعلق پوچھا، بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے اور ان کے ساتھ بات کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد دو رکعات نہیں پڑھ سکا تھا، سو یہ وہی دو رکعت ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 477]
