Arabic (Original)
449 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لاَ يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
English Translation
Narrated Aisha: The Prophet (peace be upon him) entered upon her and there was a woman with her. He asked: "Who is this?" She said: "So-and-so" — mentioning her prayer. He said: "Stop! You should do what you can manage. By Allah, Allah does not tire (of giving reward) until you tire (of worship)." The most beloved worship to him was that which was done consistently.
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم(ایک دن) میرے پاس آئے، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”یہ کون ہے؟“میں نے عرض کیا: فلاں عورت، اور اس کی نماز (کے اشتیاق اور پابندی) کا ذکر کیا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ٹھیر جاؤ (سن لو کہ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے، خدا کی قسم! (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا مگر تم (عمل کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو دین (کا) وہی (عمل) زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے (اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے)۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 449]
