Arabic (Original)
314 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ(رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحدٍ مِنْ بَعْدِي)فَرَدَّهُ خَاسِئًا
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the prayer is established, there is no prayer except the obligatory one."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”گزشتہ رات ایک سرکش جن اچانک میرے پاس آیا، وہ میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے سوچا کہ مسجد کے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب بھی اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آ گئی:﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾[سورة ص: 35]”اے میرے رب! مجھے ایسا ملک عطا فرما دے جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔“”پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس شیطان کو ذلیل کر کے دھتکار دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 314]
