Arabic (Original)
242 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاس، قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَعَادَتْ، فَقَالَ: مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
English Translation
Narrated Abu Musa: The Prophet (peace be upon him) became ill, and his illness intensified. He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." Aisha said: "He is a tender-hearted man; when he stands in your place, he will not be able to lead the people." He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." She repeated her objection. He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer. You are like the companions of Yusuf." So Abu Bakr led the prayer during the lifetime of the Prophet (peace be upon him).
Urdu Translation
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمبیمار ہوئے اور جب بیماری نے شدت اختیار کر لی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر فرمایا:”ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں،“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر فرمایا:”ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں، تم لوگ«صَوَاحِبُ يُوسُفَ»”صواحب یوسف“کی طرح (باتیں بناتی) ہو۔“آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی ہی میں نماز پڑھائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 242]
