Arabic (Original)
193 صحيح حديث أُمِّ هَانِىءٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبِ، قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، قَالَتْ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ؛ فَقَالَ: مَنْ هذِهِ فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِىءٍ بِنْتُ أَبي طَالِبٍ؛ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِىءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ، فُلاَنَ بْنَ هُبَيْرَةَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِىءٍ، قَالَتْ أُمُّ هَانِىءٍ: وَذَاكَ ضُحًى
English Translation
Narrated Umm Hani bint Abi Talib: I went to the Messenger of Allah (peace be upon him) in the year of the Conquest [of Mecca] and found him bathing while his daughter Fatimah was screening him. I greeted him, and he said: "Who is this?" I said: "I am Umm Hani bint Abi Talib." He said: "Welcome, O Umm Hani." When he finished his bath, he stood up and prayed eight rak'ahs, wrapped in a single garment. When he finished, I said: "O Messenger of Allah, my mother's son claims he will kill a man whom I have given protection — so-and-so ibn Hubayrah." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "We grant protection to those you have given protection, O Umm Hani."
Urdu Translation
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے دیکھا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمغسل کر رہے ہیں اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کیے ہوئے ہیں، میں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو سلام کیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کون ہے؟“میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اچھی آئی ہو (خوش آمدید) ام ہانی!“پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی ایک ہی کپڑے کو لپیٹ کر، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے، یہ (میرے خاوند) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے، رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ام ہانی! جسے تم نے پناہ دے دی ہم نے بھی اسے پناہ دی۔“ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 193]
