Arabic (Original)
1831 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ قَالَ: يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ
English Translation
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "An army will invade the Ka'bah. When they reach an open desert, the first and last of them will be swallowed by the earth." Aisha asked: "O Messenger of Allah, how will the first and the last of them all be swallowed when there are among them their merchants and people who are not of them?" He said: "The first and last of them will be swallowed, then they will be resurrected according to their intentions."
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قیامت کے قریب ایک لشکر کعبے پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچیں گے تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں شروع سے آخر تک کیونکر دھنسایا جائے گا، جبکہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا، پھر وہ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1831]
