Arabic (Original)
1753 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلاً كَانَ قبْلَكُمْ رَغسَهُ اللهُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِيهِ لَمَّا حُضِرَ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ قَالَ: فَإِنِّي لَمْ أَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ قَالَ: مَخَافَتُكَ فَتَلَقَّاهُ بِرَحْمَتِه
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah is more delighted with the repentance of His servant when he turns to Him in repentance than one of you would be if he were riding his camel in a desert and it ran away from him, carrying his food and drink. He loses all hope and comes to a tree and lies down in its shade, having lost hope in his camel. While he is like that, his camel suddenly appears standing beside him. He takes hold of its reins and says out of extreme joy: 'O Allah, You are my servant and I am Your Lord!' — making a mistake out of extreme joy."
Urdu Translation
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”گزشتہ امتوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا: لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا، اس لیے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور (راکھ کو) کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے عرض کیا: پروردگار! تیرے ہی خوف سے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1753]
