Arabic (Original)
1669 صحيح حَديثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله رضي الله عنهما. قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَار! فقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلأَنصار! وَقَالَ المُهَاجِرِيِّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! فَسَمِعَ ذَاكَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ؟»قَالُوا: يَا رَسُولَ الله! كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنصَارِ. فَقَالَ: «دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ». فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ الله بْنُ أُبَيِّ، فَقَالَ: فَعَلوهَا؟ أَمَا وَالله! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ.فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ الله! دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هاذَا المُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ. لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ»
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not be envious of one another. Do not hate one another. Do not turn your backs on one another. Be servants of Allah, brothers. A Muslim is the brother of another Muslim."
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ (تبوک) میں تھے۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات مار دی۔ انصاری نے کہا کہ اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا اے مہاجرین! دوڑو۔ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی اسے سنا اور فرمایا:”کیا قصہ ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات مار دی ہے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں۔“عبد اللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا کہ اچھا یہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ خدا کی قسم!﴿جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا﴾[سورة المنافقون: 8]۔ اس کی خبر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکو پہنچ گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کر دوں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلماپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1669]
