Arabic (Original)
1609 صحيح حديث جَرِيرٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ، يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمَائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ: وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتهَا كَأَنَّها جَمَلٌ أَجْوَفُ، أَوْ أَجْرَبُ قَالَ: فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ
English Translation
Narrated Jarir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said to me, "Will you not relieve me of Dhul-Khalasah?" It was a temple of Khath'am called the Ka'bah of Yemen. I set out with one hundred and fifty horsemen from Ahmas, who were good riders. I could not sit firmly on horses, so the Prophet struck my chest until I saw the marks of his fingers on my chest, and he said, "O Allah, make him firm and make him a guiding guide and rightly guided." He went to it, broke it, and burned it. Then he sent word to the Messenger of Allah (peace be upon him). Jarir's messenger said, "By the One Who sent you with the truth, I did not come to you until we left it like a mangy camel." The Prophet invoked blessings on the horsemen and men of Ahmas five times.
Urdu Translation
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”«أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟»ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔“یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے”کعبۃ الیمانیہ“کہتے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا، یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑ سوار تھے لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے میرے سینے پر (اپنے ہاتھ مبارک سے) مارا، میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا»”اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرمانا، اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنانا۔“اس کے بعد سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس کی خبر بھجوائی۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ) نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا:”اس ذات کی قسم! جس نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا، جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنا دیا، یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد ویرانی سے ہے)۔“سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلہ کے تمام لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1609]
