Arabic (Original)
1591 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلَيٍّ، رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا فَقُلْتُ لَهُ: لاَ فَقَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ، عَلَى مِنْبَرِهِ هذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً، وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا، وَلكِنْ، وَاللهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ أَبَدًا
English Translation
Narrated al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with him): Ibn Shihab narrated that 'Ali ibn Husayn told him that when they came to Madinah from Yazid ibn Mu'awiyah after the killing of Husayn ibn 'Ali (may Allah have mercy on him), al-Miswar ibn Makhramah met him and said, "Do you have any need that you would like to ask of me?" He said, "No." He said, "Will you give me the sword of the Messenger of Allah (peace be upon him)? I fear the people will take it from you. By Allah, if you give it to me, no one shall reach it as long as I am alive." Indeed, 'Ali ibn Abi Talib had proposed to the daughter of Abu Jahl while married to Fatimah (peace be upon her). I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) addressing the people about that on his pulpit, and I was then of age. He said, "Fatimah is part of me, and I fear she may be put to trial in her religion." Then he mentioned a son-in-law of his from Banu 'Abd Shams and praised his relationship, saying, "He spoke to me and was truthful, and he promised me and fulfilled his promise. I do not declare what is lawful as unlawful, nor what is unlawful as lawful, but by Allah, the daughter of the Messenger of Allah and the daughter of the enemy of Allah shall never be joined together."
Urdu Translation
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین رحمہ اللہ (سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ) نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی، اور کہا: اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجیے۔ (سیدنا زین العابدین نے بیان کیا کہ) میں نے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کیا آپ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ اسے آپ سے نہ چھین لیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی (جمیلہ) کو پیغام نکاح دے دیا تھا۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلے پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا۔ میں اس وقت بالغ تھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے خطبے میں فرمایا:”فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ (اس رشتے کی وجہ سے) کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنے میں مبتلا ہو۔“اس کے بعد آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد (عاص بن ربیع) کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی۔ جو وعدہ کیا، اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال (یعنی نکاح ثانی) کو حرام نہیں کر سکتا، اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1591]
