Arabic (Original)
1558 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رضي الله عنه تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ، فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ قَالَ: لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ: يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ، وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا: هذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ
English Translation
Narrated Salamah ibn al-Akwa' (may Allah be pleased with him): 'Ali (may Allah be pleased with him) stayed behind from the Prophet (peace be upon him) during Khaybar, as he had an eye ailment. He said, "Shall I stay behind from the Messenger of Allah (peace be upon him)?" So 'Ali went out and caught up with the Prophet (peace be upon him). On the evening of the night before the morning of the conquest, the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "I will give the banner — or: tomorrow the banner will be taken by — a man whom Allah and His Messenger love — or: who loves Allah and His Messenger — and through whom Allah will grant victory." Then 'Ali appeared, though we had not expected him. They said, "Here is 'Ali!" So the Messenger of Allah (peace be upon him) gave it to him, and Allah granted victory through him.
Urdu Translation
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا“یا (آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فرمایا):”کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔“یا آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فرمایا کہ:”جو اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے محبت رکھتا ہے اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔“پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی (کیونکہ وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے جھنڈا ان کو دیا، اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1558]
