Arabic (Original)
1494 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَدْ جَاءَ مَال الْبَحْرَيْنِ قَد أَعْطَيْتُكَ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا فَلَمْ يَجِى مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَادَى: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَحَثَى لِي حَثْيَةً، فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا
English Translation
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (peace be upon him) was not one to use obscene language, nor to curse, nor to abuse. When he wanted to rebuke someone, he would just say: "What is wrong with him? May his forehead be dusty!"
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر بحرین سے (جزیہ کا) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھر بھر کر دوں گا“، لیکن بحرین سے مال نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات تک نہیں آیا، پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا کہ جس سے بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکا کوئی وعدہ ہو یا آپصلی اللہ علیہ وسلمپر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے یہ یہ باتیں فرمائی تھیں، جسے سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی، پھر انہوں نے فرمایا کہ اس کا دگنا اور لے لو۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1494]
