Arabic (Original)
1471 صحيح حديث أَبِي مُوسى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ، أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً، وَلاَ تَنْبتُ كَلأَ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقِهَ فِي دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ قَيَّلَتِ الْمَاءَ
English Translation
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The example of the guidance and knowledge with which Allah has sent me is like abundant rain that falls on different kinds of land. Some land was fertile and absorbed the water, producing abundant vegetation and grass. Some land was hard and held the water, and Allah benefited people through it — they drank from it, watered their animals, and irrigated their crops. And some land was barren, holding no water and producing no vegetation. That is the example of one who gains understanding of Allah's religion and benefits from what I was sent with, learning and teaching it; and the example of one who pays no attention and does not accept the guidance with which I was sent."
Urdu Translation
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر (خوب) برسے۔ بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، وہ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں۔ اور کچھ زمین کے بعض ایسے خطوں پر بھی پانی پڑتا ہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتے ہیں، نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتے ہیں، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو دین میں سمجھ پیدا کرے اور اس کو وہ چیز نفع دے جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں، اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور اس شخص کی مثال جس نے سر نہیں اٹھایا (یعنی توجہ نہیں کی) اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔ (یعنی اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا)“ایک روایت میں«وَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ»کے لفظ ہیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1471]
