Arabic (Original)
1412 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ، حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلاَ يَأْتِيهِنَّ قَالَ سُفْيَانُ(أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ)وَهذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ إِذَا كَانَ كَذَا فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلآخَرِ: مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ: مَطْبُوبٌ قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ: لُبَيْدُ ابْنُ أَعْصَمَ، رَجُلٌ مِنْ زُرَيْقٍ، حَلِيفٌ لِيَهُودَ، كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: وَفِيمَ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ قَالَ: وَأَيْنَ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ قَالَتْ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ فَقَالَ: هذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَكَأَنَّ[ص:60]مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكأَنَّ نخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ قَالَ: فَاسْتُخْرِجَ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَفَلاَ، أَي، تَنَشَّرْتَ فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا
English Translation
Narrated Aisha: The Messenger of Allah (peace be upon him) was bewitched until he imagined that he was doing something when he was not. Sufyan (one of the narrators) said: This is the most severe form of sorcery. He said: "O Aisha, do you know that Allah has given me guidance regarding what I asked Him about? Two men came to me; one sat by my head and the other by my feet. The one at my head said to the other: 'What ails the man?' He said: 'He is bewitched.' He said: 'Who bewitched him?' He said: 'Labid ibn al-A'sam, a man from the tribe of Zurayq, an ally of the Jews and a hypocrite.' He said: 'With what?' He said: 'With a comb and hair from a comb.' He said: 'Where?' He said: 'In the sheath of a male date palm, beneath a stone in the well of Dharwan.'" She said: The Prophet (peace be upon him) went to the well and took it out. He said: "This is the well I was shown; its water was like henna infusion, and its date palms were like the heads of devils." She said: It was taken out. She said: I said: "Will you not seek treatment?" He said: "By Allah, Allah has healed me, and I dislike to stir up evil against anyone."
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے ساتھ ہم بستری کی ہے، حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی تھی۔ سفیان ثوری (سند کے ایک راوی) نے بیان کیا کہ یہ جادو کی سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے، ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا: ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں۔ پوچھا کہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو ذروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے۔“بیان کیا کہ پھر حضورِ اکرمصلی اللہ علیہ وسلماس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا۔ نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا؟ فرمایا:”ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی، اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1412]
