Arabic (Original)
1408 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلوكٍ وَلاَ شَيْءٍ، غَيْرَ نَاضِجٍ وَغَيْرَ فَرَسِهِ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ، وَأَعجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلثَيْ فَرْسَخٍ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ فَاسَتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي اسْتَحْيَيْتُ، فَمَضى فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ، وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ: وَاللهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ ذَلِكَ، بِخَادِمٍ يَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي
English Translation
Narrated Asma bint Abu Bakr: Al-Zubayr married me and he had no property on earth, no slaves, and nothing besides a water-drawing camel and his horse. I used to feed his horse, draw water, mend his bucket, and knead dough — though I was not good at baking. Some Ansari women who were my neighbors, trustworthy women, used to bake for me. I used to carry date stones on my head from al-Zubayr's land that the Messenger of Allah (peace be upon him) had allotted him, which was about two-thirds of a farsakh from me. One day I came with the date stones on my head and met the Messenger of Allah (peace be upon him) with a group of the Ansar. He called me and then said: "Ikh, ikh" (to make his camel kneel) so I could ride behind him. I felt shy about traveling with men and remembered al-Zubayr and his jealousy — he was the most jealous of people. The Messenger of Allah (peace be upon him) realized I was shy, so he went on. I came to al-Zubayr and said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) met me while I had date stones on my head, and he was with some companions. He made his camel kneel for me to ride, but I felt shy and remembered your jealousy." He said: "By Allah, your carrying the date stones was harder on me than your riding with him." She said: After that, Abu Bakr sent me a servant to take care of the horse, and it was as if he had set me free.
Urdu Translation
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ملاقات ہو گئی۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے بلایا، پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا:«إِخْ إِخْ»”إِخْ إِخْ“۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمچاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی با غیرت تھے۔ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمبھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اس لیے آپصلی اللہ علیہ وسلمآگے بڑھ گئے۔ پھر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمسے میری ملاقات ہو گئی تھی، میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلی، اگر تو آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیونکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں) اس کے بعد میرے والد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا، وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی، گویا والد ماجد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1408]
