Arabic (Original)
139 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا، وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ، وَنَحْنُ نَتَوَضًّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا
English Translation
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (peace be upon him) fell behind us on a journey. He caught up with us while we were performing ablution hastily for the prayer, and our heels were not fully washed. He called out in a loud voice: "Woe to the heels from the Fire!" — two or three times.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک سفر میں جو ہم نے (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی معیت میں) کیا تھا، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمہم سے پیچھے رہ گئے (وہ سفر مکہ سے مدینہ کا تھا) اور آپصلی اللہ علیہ وسلمہم سے اس وقت ملے جب (عصر کی) نماز کا وقت آن پہنچا تھا، ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے، پس پاؤں کو خوب دھونے کی بجائے ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے، (یہ حال دیکھ کر) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے بلند آواز سے پکارا:«وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»”دیکھو! ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے“، دو یا تین بار آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (یوں ہی بلند آواز سے) فرمایا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 139]
