Arabic (Original)
1340 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَسَوْتَنِيَهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، أَخًا لَهُ، بِمَكَّةَ، مُشْرِكًا
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "If the son of Adam had two valleys of wealth, he would seek a third. Nothing fills the belly of the son of Adam except dust. Allah turns in mercy to whoever repents."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ریشم کا) دھاری دار جوڑا مسجد نبویصلی اللہ علیہ وسلمکے دروازے پر بکتا دیکھا تو کہنے لگے: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! بہتر ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعے کے دن اور وفود جب آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئیں تو ان کی ملاقات کے لیے آپصلی اللہ علیہ وسلماسے پہنا کریں۔ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس اسی طرح کے کچھ جوڑے آئے تو اس میں سے ایک جوڑا آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! آپصلی اللہ علیہ وسلممجھے یہ جوڑا پہنا رہے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کچھ ایسا فرمایا تھا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے اسے تمہیں خود پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔“چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو پہنا دیا جو مکے میں رہتا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1340]
